قوالی ۔ ایک مٹتا ہوا فن
قوالی‘اردو تہذیب وثقافت کی ایک بہترین مثال ہے۔ آج کی نسل اس عظیم فن سے ناآشنا ہے۔
قوالی میں ادب و احترام لازم ہے۔ کسی زمانے میں ہندی فلموں میں قوالی کا ہونا بے حد ضروری مانا جاتا تھا۔
خواتین ہو کہ مرد ہرایک مخصوص یونیفارم میں نظرآتے اورسرتاپا وہ کپڑوں سے ڈھکے رہتے۔
سرپرٹوپی ہوتی‘ہاتھوں میں رومال بندھا ہوتا‘آنکھوں سےشرارت جھلکتی اور اسٹیج پرزندگی روشن ہوجاتی
اورمقابلہ بڑا دلچسپ ہوجاتا اورناظرین کے لیے نہ صرف تفریح بلکہ ذہنی و قلبی وروحانی سکون کا باعث بن جاتا ۔
اب فلموں میں قوالی کی جگہ ’’آئٹم سانگ‘‘ نے لے لی ہےجو بے ہودگی اور بے حیائی کے سوا کچھ بھی نہیں۔
مختصر کپڑوں کے رجحان نے قوالی کی تہذیبی وثقافتی رخ پر کالک پوت دی ہے۔
اب قوالی کچھ مخصوص درگاہوں میں عرس کے موقع پر پیش کی جاتی ہے۔
حیدرآباد کے ایک مشہور قوال وارثی برادران کی قوالی پیش کی جارہی ہے۔
۲ thoughts on “قوالی ۔ جسے ہم بھولتے جارہے ہیں”
bahot din bad sunne ka mouqa mila ____ bahot shukria
بچپن میں سنا کرتے تھے…………… آج آپ کی بدولت بھولی بسری یادیں تازہ ہوگئیں……… جزاک اللہ